مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے آپریشنز ڈپٹی چیف سردار محمد تقی اصانلو نے بیجنگ میں منعقدہ 13ویں شیانگ شان سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی راہ میں امریکہ اور دیگر خطے سے باہر کی طاقتوں کی موجودگی و مداخلت بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے خطے سے امریکہ کے انخلا اور مقامی ممالک کی قیادت میں ایک جامع علاقائی سکیورٹی نظام کے قیام پر زور دیا۔
جنرل محمد تقی نے کہا کہ مغربی ایشیاء کی سلامتی خود خطے کے ممالک کی ذمہ داری ہونی چاہیے اور بیرونی طاقتوں کو اس معاملے میں پہل اور ذمہ داری اپنے ہاتھ میں نہیں لینی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی طاقتوں کی مسلسل موجودگی نے خطے میں اسلحے کی دوڑ، باہمی خطرات کے تصورات اور ایک دوسرے پر دباؤ اور باز رکھنے کی صورتحال کو بڑھایا ہے۔
سردار اصانلو نے بین الاقوامی قانون کے اصولوں، بالخصوص طاقت کے استعمال کی ممانعت کو درپیش چیلنجز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں پر مؤثر بین الاقوامی ردعمل نہ ہونے سے عالمی قانونی نظام کمزور اور خلاف ورزیوں پر سزا نہ دینا معمول بن سکتا ہے۔
انہوں نے ایران کے خلاف فوجی حملوں اور ملکی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کمزوری کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب بین الاقوامی نظام کسی خودمختار ملک کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو تو ممالک اپنی دفاعی صلاحیت اور باز رکھنے کی قوت کو مضبوط کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
سردار اصانلو نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ خطے سے باہر کے سکیورٹی انتظامات اور خطرے پر مبنی اتحاد مغربی ایشیاء میں پائیدار اور جامع سلامتی قائم نہیں کر سکے۔
انہوں نے خطے میں مقامی، جامع اور غیرمحاذ آرائی پر مبنی سکیورٹی نظام کے قیام کی تجویز دی، جو باہمی عدم جارحیت، ریاستوں کی خودمختاری و سالمیت کے احترام، ایک دوسرے کے خلاف کسی ملک کی سرزمین استعمال نہ کرنے، مسلسل سکیورٹی مذاکرات، بحران کے انتظام، شفافیت اور فوجی اعتماد سازی پر مبنی ہو۔
انہوں نے سمندری امور، توانائی اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں علاقائی تعاون کو بھی پائیدار سلامتی کا اہم جزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کی سلامتی کی پہل، ذمہ داری اور بنیادی اختیار خود خطے کے ممالک کے پاس ہونا چاہیے۔
سردار اصانلو نے چین کے علاقائی سکیورٹی اقدامات اور چینی صدر کی چار نکاتی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرزِ عمل میں درآمد شدہ سکیورٹی ماڈلز کی موجودہ رکاوٹوں سے نکلنے میں مدد دینے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ سلامتی خریدی یا درآمد نہیں کی جا سکتی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صلاحیت مقامی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جبکہ ملک کی سلامتی ایرانی عوام کی حمایت پر استوار ہے۔
کانفرنس کے موقع پر سردار اصانلو نے مختلف ممالک کے دفاعی و فوجی حکام اور چینی عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کیں اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی اور دفاعی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
آپ کا تبصرہ